نئی دہلی،28/اگست (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کرنا دانشوروں کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک جمہوری ملک ہے اور کسی بھی غلط خبر یا ایجنڈے کے لیے حکومت کی ذمہ داری طے کرنا ضروری ہے۔ کورونا کے اعداد و شمار کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کرنا درست نہیں ہے۔ سماجی ، سیاسی ، معاشی اور ثقافتی سچائی کے حصول کے لیے حکومت پر بہت زیادہ اعتماد صرف مایوسی کا باعث بنے گا۔
جسٹس چندرچود نے کہا کہ کوئی بھی اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ حکومت کیا کہہ رہی ہے۔ زیادہ تر حکومتیں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے جھوٹ بولتی ہیں۔ یہ رجحان پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہے ، جسٹس چندرچوڑ نے یہ بات ہفتے کی صبح ’شہریوں سے برسر اقتدار سے سچ بولنے کے حقوق‘ کے موضوع پر ایک آن لائن لیکچر میں کہی۔
جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ جمہوریت میں حکومتیں سیاسی وجوہات کی بنا پر جھوٹ نہیں بول سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ سچائی کے لیے صرف حکومت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے معاشرے کے روشن خیال لوگوں کو حکومتوں کے جھوٹ کو بے نقاب کرنا چاہیے۔
جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ کورونا کے دور میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا بھر کے ممالک میں کورونا ڈیٹا میں ہیرا پھیری کی روش بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے جعلی خبروں کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ آج جعلی خبروں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ سینئر جج نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبائی مرض کے دوران اسے ’انفوڈیمک‘ کے طور پر شناخت کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ انسانوں میں سنسنی خیز خبروں کی طرف راغب ہونے کا رجحان ہوتا ہے جو اکثر جھوٹ پر مبنی ہوتا ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ ٹوئٹر جیسے سوشل میڈیا پر جھوٹ کا غلبہ ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم غلط معلومات کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں ، لیکن ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں ہیں جب ہر کوئی مذہبی ، معاشی اور سماجی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ ہم صرف اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کسی کے دوسرے خیالات ہوتے ہیں تو ہم ٹی وی کو میوٹ ( خاموش )کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقت معلوم ہی نہیں ہوتی۔